ایردوآن اور ٹرمپ میں کشیدگی نے ترکش ڈالر بانڈز کے تخت کو ہلا کر رکھ دیا

امریکا اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بلند خود مختار قرض کی نمائش کو برقرار رکھنے کی لاگت جنوری کے وسط کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکی کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ اثاثوں کو وسیع پیمانے پر دباؤ کا سامنا ہے۔میڈیارپورٹس میں بتایاگیاکہآئی ایچ ایچ مارکیٹ کے اعداد و شمار کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز پانچ سالہ کریڈٹ نے 351 بیس پوائنٹس سے 12 بیس پوائنٹس بڑھ کر 363 بیس پوائنٹس پر چھلانگ دی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گولان چوٹیوں پر اسرائیل کی حاکمیت تسلیم کرنے کے اعلان سے ڈالر اور ترکی کی لیرا کے لین دین کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے۔گزشتہ روز ترک لیرا امریکی کرنسیڈالر کے مقابلے میں ایک اعشاریہ پانچ فی صد نیچے چلا گیا جس کے بعد لیرہ کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں 5.4650 سے بڑھ کر 1.5 فیصد اضافے کے بعد 5.5475 ہوگئی۔گذشتہ برس انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تنازع کے باعث گذشتہ برس ترک لیرہ کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں 30 فی صد کم ہوگئی تھی۔
مزید خبریں