روسی لوگ گھر آنے والے مہمانوں سے کیسے ملتے ہیں؟ یہ پیسے ایک دوسرے کے ہاتھ میں کیوں نہیں دیتے بلکہ اس کیلئے وہ کیا طریقہ کار استعمال کرتے ہیں ، جاوید چوہدری کے کالم میں حیرت انگیز انکشافات

روسی معاشرے کی چند روایات قابل تقلید ہیں‘ مثلاً یہ لوگ دروازے پر کھڑے ہو کر سلام نہیں کرتے‘ مہمان اندر آئے گا یا پھر میزبان دروازے سے باہر آ کر ہاتھ بڑھائے گا اور یہ دونوں پھر ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملائیں گے‘ یہ لوگ آدھے دروازے کے اندر اور آدھے باہر کھڑے ہو کر ایک دوسرے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے‘ یہ لوگ منفی پچاس ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی دستانے اتار کرایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں‘یہ دستانے میں ہاتھ آگے بڑھانا یا بڑھا ہوا ہاتھ تھامنا اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں۔ یہ شاید وہ روایت ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ دہلیز پر کھڑے ہو کر ہاتھ نہیں ملاتے‘ سردیوں میں ظاہر ہے دستانے اتارنا ممکن نہیں ہوتا چنانچہیہپہلے مہمان کو اندر لاتے ہیں‘ مہمان اندر پہنچ کر دستانے اتارتا ہے اور یہ پھر ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں‘ یہ دوسروں کو کرنسی نوٹ بھی نہیں پکڑاتے‘ روس میں نوٹ پکڑنا یا نوٹ پکڑانا توہین سمجھا جاتا ہے‘ یہ لوگ نوٹ پہلے میز پر رکھتے ہیں اور پھر دوسرا اٹھاتا ہے‘ آپ اگر نوٹ میز پر نہیں رکھیں گے تو آپ کی ڈیل نہیں ہو گی تاہم چھوٹی دکانوں میں صورت حال مختلف ہے‘ گاہک دکاندار کو رقم پکڑاتے رہتے ہیں اور دکاندار گاہکوں سے رقم لیتے رہتے ہیں لیکن یہ لوگ عام لین دین میں اپنی پرانی روایت کا خیال رکھتے ہیں‘ہوٹل میں میرا کریڈٹ کارڈ نہیں چل رہا تھا‘ میں نے ٹیکسی کا کرایہ ادا کرنا تھا‘ میں نے یہ رقم فرنٹ ڈیسک سے لے کر دے دی‘ شام کو میں یہ رقم واپس کرنے لگا تو ریسیپشن پر موجود کوئی شخص نوٹ لینے کےلئے تیار نہیں تھا‘ میں نے تنگ آکر رقم کاﺅنٹر پر رکھ دی‘ خاتون نے فوراً نوٹ اٹھا لیا‘ میں نے رات کے وقت یہ واقعہ گائیڈ کو سنایاتو اس نے ہنس کر جواب دیا ”ہم دوسروں کے ہاتھ سے نوٹ نہیں لیتے‘ ہم صرف میز پر پڑے پیسے اٹھاتے ہیں“ یہ میرے لئے نئی بات تھی‘ یہ لوگ خالی بوتل بھی میز پر نہیں رکھتے‘ یہ لوگ شراب پیتے رہیں گے لیکن جوں ہی بوتل خالی ہو جائے گی یہ اسے کرسی یا میز کے نیچے رکھ دیں گے یا پھر فرش پر لڑکھڑا دیں گے۔ یہ پانی اور جوس کی خالی بوتلیں بھی میز پر نہیں رہنے دیتے‘ کیوں؟ مجھے وجہ سمجھ نہیں آئی‘ یہ عورت کی بے انتہا عزت کرتے ہیں‘ شاید روس میں عورتیں زیادہ ہیں چنانچہ عورتوں نے بزور بازو مردوں کو عزت پر مجبور کر لیا ہے‘ روس زمانہ قدیم سے جنگوں کا شکار چلا آ رہا ہے‘جنگوں میں مرد مارے جاتے تھے لہٰذا عورتوں کی تعداد بڑھ جاتی تھی یوں معاشرہ آہستہ آہستہ عورتوں کے ہاتھ میں آگیا اور یہ مردوں کو اپنی عزت پر مجبور کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ آج پورا معاشرہ خواتین کی عزت کرتا ہے۔ روسی مرد اٹھ کر ان کا استقبال بھی کرتے ہیں‘ یہ کوٹ یا جیکٹ اتارنے میں ان کی مدد بھی کرتے ہیں‘یہ ان کےلئے کرسی بھی سیدھی کرتے ہیں‘ خواتین جب تک کھانا شروع نہ کریں مرد اپنی پلیٹ سے چمچ یا کانٹا نہیں بھرتے‘ یہ اگر چائے‘ کافی یا کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں تو مرد بھی کھانا بند کر دیتے ہیں‘ مرد اٹھنے کے بعد خواتین کی کرسیاں بھی سیدھی کرتے ہیں اور یہ انہیں کوٹ اور جیکٹ بھی پہناتے ہیں‘ خواتین مرد کے آگے یا پھر ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ یہ لوگ عورت کو اپنے پیچھے چلانا یا اسے چند قدم پیچھے رکھنا غیر اخلاقی حرکت سمجھتے ہیں‘ یہ لوگ ایک دلچسپ قسم کی ابلی پیخا چائے بھی پیتے ہیں‘ ابلی پیخا بیری جیسا پھل ہے‘یہ پھل صرف روس میں اگتا ہے اور یہ جلد‘ منہ کے السر‘ قبض اور ایکنی کےلئے بھی اکسیر ہوتا ہے اور یہ وزن بھی کم کرتا ہے‘ یہ لوگ ابلی پیخا کو کاٹ کر گرم پانی میں ڈالتے ہیں اور اس میں سیب‘ چوقندر اور مالٹا ڈال دیتے ہیں اور یہ قہوہ کھانے کے ساتھ ساتھ پیتے رہتے ہیں‘ یہ ملٹی وٹامن کا خزانہ سمجھا جاتا ہے‘ یہ توانائی بھی دیتا ہے اور وزن بھی کنٹرول میں رکھتا ہے۔ روس میں سردی اور بارش آسمانی آفت ہے‘ یہ آفت کسی بھی وقت آ سکتی ہے چنانچہ یہ لوگ جون جولائی میں بھی اوورکوٹ اور چھتری لے کر گھر سے نکلتے ہیں‘ میں مئی میں روس گیا تھا‘ پاکستان میں خوفناک گرمی شروع ہو چکی تھی تاہم میں نے احتیاطاً اوورکوٹ‘ مفلر اور سویٹر ساتھ رکھ لیا تھا‘ ماسکو میں باہر نکلتے ہی سردی کاخوفناک حملہ ہوا اور میں گرم کپڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا‘ میں نے اس کے بعد پانچ دن گرم کپڑوں سے باہر نکلنے کی غلطی نہیں کی۔ میں بار بار اس تجربے سے بھی گزرا‘
مزید خبریں