حضور اکرم نے فرمایا کہ آدمی مال دولت نہیں دل سے غنی ہوتاہے

عن ابی کبشۃ الانماری عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما یقول: ثلاث اقسم علیھن ؛ ما نقص مال عبد من صدقۃ. ولا ظلم عبد مظلمۃ فصبر علیھا ، الا زادہ اللّٰہ عزا. ولا فتح عبد باب مسئلۃ، الا فتح اللّٰہ علیہ باب فقر. واحدثکم حدیثا. فا حفظوہ. قال: انما الدنیا لأربعۃ نفر؛ عبد رزقہ اللّٰہ مالا وعلماً، فھو یتقی فیہ ربہ، و یصل فیہ رحمہ. ویعلم للّٰہ فیہ حقا فھذا بأفضل المنازل. و عبد رزقہ اللّٰہ علما ولم یرزقہ مالا. فھو صادق النیۃ ؛ یقول لو ان لی مالاً لعملتُ بعمل فلان فھو بنیتہ فأجرھما سواءٌ وعبد رزقہ اللّٰہ مالا ولم یرزقہ علماً. فھو یخبط فیہ بغیر علم ، لا یتقی فیہ ربہ. ولا یضل فیہ رحمہ. ولا یعلم للّٰہ فیہ حقا. فھذا بأخبث المنازل. وعبدٌ لم یرزقہ اللّٰہ مالاً ولا علما. فھو یقول: لو ان لی مالاً لعملت فیہ بعمل فلان فھو بنیتہ فوزرہما سواءٌ.(ترمذی:زھد۱۷) ابو کبشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میں قسم کھاتا ہوں کہ وہ ضرور ہوں گی۔ ایک یہ کہ جس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، وہ جان لے کہ اس کے مال میں کمی نہیں ہوئی۔ دوسرے یہ کہ کسی پر ظلم ہو اور وہ بے گناہ بھی ہو پھر وہ اس ظلم پر صبر کرے تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ اس کی عزت نہ بڑھائے۔ تیسرے یہ کہ جب کوئی آدمی مانگنے نکلے، یعنی اللہ کو چھوڑ کر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے لگے تو اللہ اس پر تنگ دستی کے دروازے ضرور کھول دیتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: میں تمھیں ایک بات بتاتا ہوں اس کو یاد رکھو کہ یہ دنیا چار طرح کے لوگوں کی ہے۔ ایک وہ بندہ جسے مال اور علم ملا ہو اور وہ اپنے مال کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا ہو۔ اس مال کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتا ہو۔ اور جانتا ہو کہ اس میں اللہ کا حق بھی ہے۔ ایسے لوگ اعلیٰ ترین مقام والے ہوں گے۔ دوسرے وہ آدمی جس کو مال تو نہ ملا ہو، لیکن علم ملا ہو اور وہ نیت کا سچا ہو اور سچی نیت کے ساتھ سوچے کہ اگر اس کے پاس مال ہوتا تو میں فلاں (نیک) آدمی کی طرح اسے خرچ کرتا۔ تو اس کے ساتھ اس کی نیت کے مطابق معاملہ ہو گا۔ان دونوں کا درجہ برابر قرار پائے گا۔ تیسرے وہ آدمی کہ جس کو مال ملا ہو، لیکن علم نہ ملا ہو اور علم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے مال ہی میں سرگرادں رہے، نہ وہ مال کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا ہو اور نہ وہ اس کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتا ہو تو یہ آدمی بد ترین مقام پر ہے۔ چوتھے وہ لوگ جنھیں نہ مال ملا ہو اور نہ علم اورکہیں کہ اگر ان کے پاس مال ہوتو وہ فلاں (برے) آدمی کی طرح سے خرچ کریں گے تو ان کے ساتھ بھی ان کی نیت کے مطابق معاملہ ہو گا۔ اور یہ دونوں گناہوں کے یکساں بوجھ کے ساتھ اٹھیں گے۔ شرح حدیث ما نقص مال عبد من صدقۃ: صدقہ و خیرات سے کسی کا مال کم نہیں ہوتا۔ یہ بات بظاہر حال خلاف مشاہدہ ہے، لیکن عین حقیقت ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں کہ ایک آدمی اپنی تجوری میں سے روپے نکال کر بنک میں جمع کرا دے تو اس کے مال میں بظاہر تو کمی ہو گئی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ بنک میں موجود روپے بھی اسی کے ہیں۔ اسی طرح کی صورت صدقہ و خیرات کی ہے۔ کیونکہ آدمی جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، وہ اللہ کے ہاں اس کے نام پر جمع ہو جاتا ہے، بلکہ قرآن تو کہتا ہے کہ اس میں اضافہ بھی ہو جائے گا۔فرمایا: وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ہُوَ خَیْْرًا وَّأَعْظَمَ أَجْرًا. (المزمل ۷۳: ۲۰) '' جو کچھ تم (اللہ کے ہاں) اپنے اموال میں سے بھیج دو گے، اسے تم اللہ کے ہاں پہلے سے بہتر اور اجر میں بڑھا ہوا پاؤ گے۔'' یہ انفاق کی ترغیب دی گئی ہے کہ جو کچھ ہم اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے، وہ کسی دوسرے کے لیے نہیں، بلکہ خود اپنے لیے کریں گے۔ وہ اللہ کے پاس ہمارے حساب میں جمع ہو گا۔ اور نہ صرف یہ کہ ہمیں مل جائے گا، بلکہ ہمارے دیے ہوئے سے بہتر ہو گا اور کئی گنا زیادہ ہو گا۔ لیکن یہ اضافہ نیت کے صحیح ہونے پر ہو گا۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے وقت آدمی کی نیت تمام آلایشوں سے پاک ہونی چاہیے۔ یعنی وہ سخی کہلانے کے لیے خیرات نہ کرے اور نہ کسی بدلے کی خواہش میں کہ وہ آدمی اس کے بدلے میں اسے کچھ دے دے گا۔ یا یہ کہ وہ ان روپوں کے بدلے دینے والے کی عزت کرے اور اس کے لیے فرماں بردار رہے۔ قرآن میں ہے کہ: وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖمِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّأَسِیْرًا. إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَا شُکُوْرًا. (الدہر ۷۶: ۸۔۹) '' اور وہ مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے رہے ہیں۔ خود اس کے حاجت مند ہوتے ہوئے، ( اس جذبہ کے ساتھ کہ) ہم تمھیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں۔ نہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیںاور نہ شکریہ کے۔'' لیکن جس کے ارادے کچھ اور ہوں۔ اللہ کی خوشنودی جس کا مقصود نہ ہو تو وہ خواہ ایک اکنی بھی خرچ کرے تو اسے جان لینا چاہیے کہ اس کے مال میں سے ایک اکنی کم ہو گئی۔ دوسری چیز قرآن سے اس سلسلے میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ نیت اگرچہ صالح ہی ہو، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جس کی مدد کی جائے اس کو نہ تو بعد میں احسان جتایا جائے اور نہ اس کو اذیت دی جائے۔یعنی یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اسے بعد میں تنگ کرنے لگیں یا طرح طرح کے کام لینے شروع کر دیں کہ چلو، ان روپوں کے بدلے میں یہ کام ہی سہی۔ اس صورت میں اللہ پر کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ ہمارے صدقہ و خیرات کو اجر کے اعتبار سے بڑھا دے۔ قرآن میں یہ اصول پوری وضاحت کے ساتھ سورۂ بقرہ میں بیان ہوا ہے: مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ أَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِاءَۃُ حَبَّۃٍ وَاللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ.اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ أَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ لاَ یُتْبِعُوْنَ مَآ أَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَآ أَذًیلَّہُمْ أَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ. (۲: ۲۶۱۔۲۶۲) '' ان لوگوں کے مالوں کی تمثیل، جو اپنے مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اس دانے کی مانند ہے جس سے سات بالیں پیدا ہوں اور اس کی ہربالی میں سو دانے ہوں۔ اللہ برکت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اللہ بہت وسیع خزانوں والا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں نہ دل آزاری کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ وہاں ان کے لیے نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ ہو گا اور نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا۔'' اس میں دونوں شرطیں یعنی نیت کا صالح ہونا اور احسان نہ جتانا، اذیت نہ دینا وغیرہ بیان کر دی گئی ہیں۔ نیت کی صحت کے لیے فی سبیل اللہ کے الفاظ آئے ہیں کہ یہ انفاق اللہ کی خوشنودی ہی کے لیے ہو۔ دنیا کی کسی خواہش کے لیے نہ ہو اور دوسری شرط 'منا' اور 'اذیً' کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ 'اذیً' کا لفظ ہر اس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو باعث رنج و اذیت ہو۔ عام اس سے کہ یہ رنج و اذیت جسمانی ہو یا ذہنی۔ اس آیت میں اس سے مراد وہ طعن و تشنیع اور توہین و تحقیر ہے جو عموماً کم ظرف لوگوں کی طرف سے ان لوگوں پر ظاہر ہوتی ہے جن پر وہ کوئی احسان کر بیٹھتے ہوں۔ چنانچہ اس اجر عظیم کے مستحق وہی لوگ ہیں جو انفاق کرنے کے بعد نہ تو اس کا احسان جتائیں اور نہ لوگوں کی دل آزاری کریں۔ دل آزاری اور احسان جتانا، دونوں ایک ہی فاسد کردار کے دو پہلو ہیں۔ لئیم اور کم ظرف لوگ اگر کسی پر کچھ خرچ کر بیٹھتے ہیں تو اس کے بدلے میں ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اب وہ شخص ان کا ممنون احسان رہے۔ اور اگر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو رہی تو پھر وہ اس غریب کو طعن و تشنیع کا ہدف بنا لیتے ہیں اور جب بھی انھیں موقع ملتا ہے اس کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے نقصان ہی نقصان ہے۔ یہاں بھی ان کے مال میں کمی ہوئی اور انعام کے دن بھی وہ اس کے انعام سے محروم رہیں گے۔ ولا ظلم عبد مظلمۃ فصبر علیہا الا زادہ اللّٰہ عزا۔ آدمی پر ظلم ہو جب کہ اس کا کوئی جرم نہ ہو۔ اور اس ظلم کے باوجود وہ حق پر ثابت قدم رہے تو اللہ اس کی عزت ضرور بڑھائے گا۔ انسان کی فطرت اگر بگڑ نہ گئی ہو تو وہ ہمیشہ بے گناہوں سے ہمدردی رکھتا ہے اور ظلم کرنے والوں کے بارے میں اگرچہ وہ نفرت کا اظہار نہ کر سکے تب بھی دل میں ضرور ان کے بارے میں نفرت رکھتا ہے۔ یہ نفرت اگرچہ علانیہ نہیں ہوتی، لیکن ہر چہرے پر پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ نفرت بعض اوقات ایک دور کی نفرت نہیں رہتی، بلکہ یہ نفرت انسان کے دل میں قیامت تک کے لیے جاگزیں ہو جاتی ہے۔ اور مظلوم آدمی سے ہمدردی بھی اگرچہ بعض اوقات دلوں میں چھپی ہوتی ہے، لیکن وہ اتنی گہری ہوتی ہے کہ مظلوم انسانوں کو قیامت تک کے لیے زندہ جاوید بنا دیتی ہے۔ سقراط کو یونان کی جمہوری حکومت زہر پلا دیتی ہے۔ اس سزا کے سنائے جانے کے باوجود سقراط اپنے موقف پر ثابت قدم رہتا ہے اور زہر کا پیالہ پی لیتا ہے۔ آج یونان کی اس حکومت کے افراد کو تو کوئی نہیں جانتا، لیکن سقراط اب بھی زندہ ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو آرے سے چیر دیا جاتا ہے۔ آرے سے چیرنے والے آج بھی نفرت سے یاد کیے جاتے ہیں۔ اور حضرت زکریا آج بھی حق کے داعیوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ یہ وہ عظمت و عزت ہے جو ہر مظلوم کو صبر کرنے پر ملتی ہے۔ ان دو مثالوں سے ہم اس بات کی صداقت جان سکتے ہیں، لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے، بلکہ آگے بڑھ کر دوسری دنیا سے بھی متعلق ہے۔ یہاں ہو سکتا ہے کہ کوئی مظلوم مارا جائے اور اسے جاننے والا کوئی نہ ہو، لیکن آخرت میں اس کے صبر کے بدلے میں ایسی عزت ملے گی جو اس پر ہونے والے ظلم سے کہیں بڑھ کر ہوگی۔ یہاں یہ بات بھی بالبداہت واضح ہے کہ ظلم کرنے والے کے لیے رسوائی ہے۔ راہ حق میں ثابت قدمی دکھانے والوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔ ۱؂تو جس کے ساتھ اللہ خود ہی موجود ہو، اس کی عزت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی۔ ولا فتح عبدٌ باب مسئلۃ الا فتح اللّٰہ علیہ باب فقر: کوئی آدمی گداگری شروع کرے تو اللہ اس پر تنگ دستی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ گداگری وہ رذیل ترین حرکت ہے جو ایک آدمی غربت کے ہاتھوں، خدا پر توکل نہ ہونے کی وجہ سے کرتا ہے۔ وہ اپنے اس عمل سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے اللہ کے اس فرمان کو کوئی حیثیت نہیں دی کہ وہ جسے چاہتا ہے، رزق دیتا ہے۔۲؂اور یہ کہ وہ اپنے فطری عہد کو فراموش کر دیتا ہے جو اس کے رگ و پے میں ودیعت ہے کہ اسے اللہ ہی سے مانگنا چاہیے۔ ان دونوں عہدوں کی خلاف ورزی کی سزا اسے یہ ملتی ہے کہ اللہ اسے مزید تنگ دست کر دیتا ہے۔اس سے زیادہ بری حالت کسی کی اور کیا ہو گی کہ لوگ اس کو حقارت سے دیکھیں اور دھتکاریں اور وہ پھر انھی کے دروازوں پر صدا دیتا پھرے۔ یہی رویہ اگر اس نے خدا کے ساتھ رکھا ہوتا کہ اس کے ہاں سے نہ ملنے پر بھی اس کے دروازے پر جاتا اوربار بار ٹھکرائے جانے پر بھی اسی کے دروازے پر پڑا رہتا تو نہ صرف یہ کہ اس کے رزق میں فراخی ہوتی، بلکہ بعد کی زندگی میں بھی اللہ اس کو اپنے قریب رکھتا۔ لیکن جو لوگ اللہ کی اس آزمایش پر پورے نہیں اترتے اور خدا کے دروازے سے انھیں جب پہلی پکار پر کچھ نہیں ملتا تو وہ اس کے دروازے سے فوراً ہٹ آتے ہیں کہ یہاں سے انھیں کچھ نہیں ملے گا۔ حالانکہ یہی لوگ جب اپنی طرح کے انسانوں کے دروازوں پر دستک دیتے ہیں تو پہلی پکار پر ہی لوٹ نہیں آتے، بار بار دھتکارے جاتے ہیں پھر بھی کھڑے رہتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ لوگوں کے دروازے پر توانکار کا احتمال بہت ہوتا ہے، لیکن اللہ کے دروازے سے کبھی انکار نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ اپنے مانگنے والوں کو جلد یا بہ دیر ان کی پکار کا جواب ضرور دیتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ بندہ اللہ کے دربار کے آداب سے واقف ہو۔ لیکن اس کے دروازے کو چھوڑ کر دوسروں کے دروازے پر دستک دینا، خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو خدا بنانا ہے۔ اور جو خدا سے مانگنے کے بجائے دوسروں سے مانگتا ہے، وہ اصل میں غلط جگہ سے مانگ رہا ہے۔ وہ مالک سے مانگنے کے بجائے غلاموں سے مانگ رہا ہے۔ اور اس حقیقت سے انکار کر رہا ہوتا ہے کہ جن لوگوں سے وہ مانگ رہا ہے، ان کو بھی وہی خدا دیتا ہے جس کا دروازہ اس نے چھوڑ دیا ہے۔ اور اب خدا کی روٹی کو چھوڑ کر وہ فقیری کی روٹی کھا رہا ہے۔ یہ اس کی سزا ہے۔ یہ سزا اس دنیا کی سزا ہے۔ قیامت کے دن اس آدمی کے ماتھے پر کالا داغ ہو گا ۔ جس طرح خدا کے بندوں کی پیشانیاں سجدوں کے نشانوں سے چمک رہی ہوں گی۔ اسی طرح اس کی پیشانی دوسروں کے دروازوں پر جھکنے کی وجہ سے سیاہ ہو گی اور وہ دوسروں سے چھپتا پھرے گا۔ انما الدنیا لاربعۃ نفر. عبد رزقہ اللّٰہ مالا و علما؛ فھو یتقی فیہ ربہ. و یصل فیہ رحمہ و یعلم للّٰہ فیہ حقا. فھذا بأفضل المنازل. وعبد رزقہ اللّٰہ علما ولم یرزقہ مالا. وہو صادق النیۃ، یقول: لو ان لی مالا لعملت بعمل فلان فھو بنیتہ فأجرھما سواء. رزق کے اعتبار سے یہ دو گروہ ہیں جو مال و دولت کے ہوتے ہوئے بھی اور نہ ہوتے ہوئے بھی خدا خوفی سے زندگی گزارتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں اور چونکہ وہ جانتے ہوتے ہیں کہ ان کے مالوں میں اللہ کا بھی حق ہے، اس لیے وہ اللہ کی راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں اور اگر وہ غریب ہوں تو سوچتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کچھ ہوتا تو وہ صلہ رحمی کرتے، اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تو یہ دونوں گروہ اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوں گے۔ یہاں مال کے ساتھ علم کا بھی ذکر ہے۔ ظاہر ہے، عمل کی صحت کے لیے صحیح علم ناگزیر ہے۔ اس علم سے مراد وہ بصیرت ہے جو آدمی کی صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیک اعمال پر ابھارتی ہے۔ یہ آدمی کوفطری طور پر بھی مل سکتی ہے اور پیغمبروں کی تعلیم سے بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ زیر بحث دونوں گروہ اس بصیرت کے حامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی اس بصیرت کی رہنمائی میں اللہ کے بندے بن کر رہتے ہیں۔ خدا خوفی، صلہ رحمی اور انفاق کرتے ہیں اور وہ یہ سارے کے سارے عمل اللہ کے لیے کرتے ہیں، اس لیے ان کی آخری منزل وہ اعلیٰ مقام ہے جس میں نہ کوئی ماضی کا پچھتاوا ہو گا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ ۳؂ یہ بات یہاں بالکل واضح ہے کہ وہ دینی بصیرت ہونے کی وجہ سے قرآن کی دونوں شرائط پوری کرتے ہیں جن کا ذکر ہم نے اوپر کی سطور میں کیا ہے۔ وعبد رزقہ اللّٰہ مالا ولم یرزقہ علما. فھو یخبط بغیر علم ولا یتقی فیہ ربہ. ولا یصل فیہ رحمہ ولا یعلم للّٰہ فیہ حقا. فھذا بأخبث المنازل. و عبد لم یرزقہ اللّٰہ مالا ولا علما فھو یقول: لو ان لی مالا لعملت فیہ بعمل فلان فھو بنیتہ فوزرھما سواء. اب ان لوگوں کاذکر ہے جن کو یہ بصیرت حاصل نہیں تھی۔ ہماری اس بات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انھیں یہ بصیرت اللہ ہی کی طرف سے نہیں ملی تھی، بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ بصیرت سے یہ محرومی ان کے اپنے نفس کی غفلتوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اپنے نفس کی پیروی میں اس بصیرت سے محروم رہتے ہیں اور مال کے معاملے میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اپنی راہ کھوٹی کر لیتے ہیں۔ وہ مال کے جنون میں ایسے اندھے ہوتے ہیں کہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مال اللہ کا عطا کردہ ہے اور وہ کسی دن اس کا حساب بھی لے گا۔ دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں کہ جو اس بصیرت سے بھی محروم ہوتے ہیں اور مال و منال بھی ان کو نہیں ملا ہوتا، لیکن وہ اس خیال میں غلطاں و پیچاں رہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس مال ہوتا تو وہ بھی ویسی ہی '' حماقتیں ''کریں گے۔ ان دونوں گروہوں کا معاملہ ان کی نیتوں پر ہو گا اور دونوں کے لیے قیامت کے دن گناہوں کا یکساں بوجھ ہو گا۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گویا اپنے بنک میں روپے جمع کرانا ہے۔ خیرات و صدقہ کیے ہوئے پیسے ہمیں اللہ کے ہاں پہلے سے بہتر حالت میں ملیں گے، اس لیے صدقہ کرنے یا خیرات دینے سے ہمارے مال میں کمی نہیں ہوتی۔ کسی مظلوم پر ظلم ہو اور وہ ثابت قدم رہے تو اللہ اس کا ساتھ دیتا ہے اور اس کو دونوں جہانوں میں عزت وعظمت عطا کرتا ہے۔ اور ظلم کرنے والوں کے لیے دونوں جہانوں کی رسوائی ہے۔ جو لوگ اللہ سے مانگنے کے بجائے لوگوں سے مانگتے ہیں، وہ اصل میں لوگوں کو خدا بناتے ہیں، تو اللہ ان کے رزق میں مزید کمی کر دیتا ہے۔ قیامت کے دن ان کے ماتھے سیاہ ہو ں گے۔ رزق کے اعتبار سے دنیا میں چار گروہ ہیں۔پہلے دو وہ ہیں جو اہل بصیرت ہوتے ہیں اور خدا خوفی کی زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے لیے ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے اندیشوں سے پاک ایک اعلیٰ ترین زندگی ہو گی۔ دوسرے وہ گروہ ہیں جو بصیرت سے محروم تھے۔ نہ انھوں نے صلہ رحمی کی اور نہ خدا سے ڈرے۔ نہ انفاق کیا، نہ زکوٰۃ دی۔ ان کے لیے پچھتاووں اور اندیشوں سے پر بدترین زندگی ہے،جو ان کی سزا ہو گی۔ [۱۹۸۹ء] _________ ۱؂اِنَ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ.(البقرہ ۲: ۱۵۳) ۲؂وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ.(البقرہ ۲: ۲۱۲) ۳؂'اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَآ اَذًی لَّھُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ' (البقرہ۲: ۲۶۲)'' جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں نہ دل آزاری کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے، وہاں ان کے لیے نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ ہو گا اور نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا۔''
مزید خبریں