سوال_قربانی کا جانور نحر/ذبح کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کیا عورت خود بھی جانور ذبح کر سکتی ہے؟ اور ذبح کرتے وقت کونس دعا پڑھنی چاہیے؟

جاوید بودلہ اکتوبر 23, 2018 0 تبصرے “سلسلہ سوال و جواب نمبر-74” سوال_قربانی کا جانور نحر/ذبح کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کیا عورت خود بھی جانور ذبح کر سکتی ہے؟ اور ذبح کرتے وقت کونس دعا پڑھنی چاہیے؟ Published Date: 20-8-2018 جواب..! الحمد للہ..! *قربانی عید کی نماز کے بعد کرنی چاہیے جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اسکی قربانی قبول نہیں* نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج ( عید الاضحی کے دن ) کی ابتداء ہم نماز ( عید ) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص ( نماز عید سے ) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے قربانی وہ قطعاً بھی نہیں..!انتہی! (صحیح بخاری،حدیث نمبر-5545) (صحیح مسلم،حدیث نمبر-1553) *نحر اور قربانی کرنے کی جگہ* نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ ہی میں نحر اور ذبح کیا کرتے۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر-982) عیدگاہ میں ذبح کرنا سنت ہے، ضروری نہیں، کہیں بھی جانور ذبح کیا جا سکتا ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مكہ كی ہر گلی ایک راستہ اور منحر ( نحر كرنے كی جگہ)ہے (سلسلہ الصحیحہ،2464) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا منیٰ قربانی کی جگہ ہے، اور مکہ کی سب گلیاں راستے، قربانی کی جگہیں ہیں، (ابو داؤد حدیث نمبر_3048) *تیز دھار آلہ سے ذبح کرنا،چھری وغیرہ جانور کے سامنے تیز نا کرنا اور جانوروں کو تکلیف سے بچانے کے لیے ایک دوجے کے سامنے ذبح نا کرنا* شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں! دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ایک یہ کہ: اللہ نے ہر چیز کو اچھے ڈھنگ سے کرنے کو فرض کیا ہے لہٰذا جب تم ( قصاص یا حد کے طور پر کسی کو ) قتل کرو تو اچھے ڈھنگ سے کرو ( یعنی اگر خون کے بدلے خون کرو تو جلد ہی فراغت حاصل کر لو تڑپا تڑپا کر مت مارو ) ، ( اور مسلم بن ابراہیم کے سوا دوسروں کی روایت میں ہے ) تو اچھے ڈھنگ سے قتل کرو، اور جب کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے، (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-2815) تمام فقہائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ذبح کرتے ہوئے خیال کیا جائے کہ ایک جانور کو اسی نسل کے کسی دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کیا جائے۔ دیکھیں: “الموسوعة الفقهية” (10 /221) ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: “کسی بکری کے سامنے دوسری بکری کو ذبح کرنا مکروہ ہے ” انتہی “المغنی” (9/317) اسی طرح “عون المعبود” میں ہے کہ: “بے دردی کیساتھ جانور کو مت گرائے، اور نہ ہی اسے بے دردی کیساتھ ذبح کیلئے کھینچے، نیز کسی دوسرے جانور کے سامنے بھی اسے ذبح نہ کرے” شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں: “ایک جانور کو کسی دوسرے جانور کے سامنے ذبح کرنا مکروہ ہے” انتہی “مجموع فتاوى ابن باز” (23 /73-74) اور شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کہتے ہیں کہ: “کند چھری یا آلے سے ذبح نہ کرے کیونکہ اس طرح اسے تکلیف ہوگی، اسی طرح دیگر جانوروں کے سامنے بھی اسے ذبح نہ کرے یہ جانور کو عذاب میں مبتلا کرنے کے مترادف ہوگا” انتہی (شرح سنن ابو داود_15 /212) چھری کے علاوہ بھی کسی تیز دھار آلہ سے ذبح کرنا جائز ہے، عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں! میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کسی کو کوئی شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے سے ( اس شکار کو ) ذبح کر لے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ اکبر کہہ کر ( اللہ کا نام لے کر ) جس چیز سے چاہے خون بہا دو، (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-2824) (سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر-3177) *قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا سنت ہے،اگر خود ذبح نا کر سکیں تو کسی دوسرے سے ذبح کروا لیں تو بھی کوئی حرج نہیں* انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں! کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں جانور کے اوپر رکھے ہوئے ہیں اور بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے ہیں۔ اس طرح آپ نے دونوں مینڈھوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ (صحیح بخاری،حدیث نمبر-5558) انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں! کہ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹ کھڑے کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی، (صحیح بخاری،حدیث نمبر-1712) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجة الوداع کے موقع پر نحر کی جگہ آئے اور جو سو اونٹ آپ ساتھ لے کر آئے تھے ان میں سے تریسٹھ اونٹ آپ نے اپنے دست مبارک سے نحر ( یعنی قربان ) کئے ، باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دئیے کہ انہوں نے نحر کئے ۔ (صحیح مسلم،حدیث نمبر-1218) عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی، (صحیح بخاری،حدیث نمبر-5559) ان تمام احادیث یہ بات سمجھ آئی کہ نبی کریم ﷺ عام طور پر اپنے دست مبارک سے قربانی کے جانور خود ذبح کرتے اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ نے 63 اونٹ خود ذبح کئے اور 37 اونٹ حضرت علیؓ نے ذبح کیے، تو معلوم ہوا کہ قربانی دینے والوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا چاہئے اور یہی افضل ہے اور کسی کی طرف سے وکالتاً ذبح کرنا بھی جائز ہے، جیسا کہ حضرت علیؓ نے کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی عورتوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی تھی *عورتیں خود بھی جانور ذبح کر سکتی ہیں* کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ریوڑ میں سے ایک بکری مرنے لگی تو اس نے اسے مرنے سے پہلے پتھر سے ذبح کر دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھاؤ۔، (صحیح بخاری،حدیث نمبر-5505) ابو موسیٰ اشعریؒ سے امام بخاریؒ نے تعلیقاً ذِکر کیا ہے: «اَمَرَ أَبُوْ مُوْسٰي بَنَاتِه أَنْ يُضَحِّيْنَ بِأَيْدِيْھِنَّ» (ابو موسیٰ نے اپنی لڑکیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے ذبح کریں، صحیح بخاری،کتاب لاضاحی-5559) *اونٹ نحر کرنے کا طریقہ* عرفہ بن حارث کندی کہتے ہیں، میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوالحسن ( علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) کو بلاؤ ، چنانچہ آپ کے پاس علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-1766) زیاد بن جبیر کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے کھڑا کر اور باندھ دے، پھر نحر کر کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ (صحیح بخاری،حدیث نمبر-1713) (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-1768) صحیح مسلم کی روایت میں ہے! ” اسے اٹھا کر کھڑی حالت میں گھٹنا باندھ کر ( نحر کرو یہی ) تمھا رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، (مسلم حدیث نمبر-1320) ( ابن جریج کہتے ہیں: نیز مجھے عبدالرحمٰن بن سابط نے ( مرسلاً ) خبر دی ہے ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے، (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-1767) علامہ البانی نے صحیح اںو داؤد میں صحیح کہا ہے اور امام النووی نے شرح مسلم ٩/٦٩ • میں اسکی سند کو صحيح مسلم کی شرائط پر صحیح کہا ہے! وضاحت_ اونٹ کی قربانی کا سنت طریقہ یہ ہے کہ اسے اس طرح کھڑا کریں کہ اس کی اگلی بائیں ٹانگ کو ران کے ساتھ ملا کر باندھ دیں اور تین ٹانگوں پر کھڑا کر دیں، پھر تکبیر پڑھ کر اس کے سینے اور گردن کی جڑ کے درمیان والے گڑھے میں نیزہ، خنجر یا تیز دھار والا کوئی آلہ ماریں جس سے اس کی شاہ رگ کٹ جائے، *بکری،دنبہ،گائے وغیرہ ذبح کرنے کا طریقہ* نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن سینگ دار ابلق خصی کئے ہوئے دو دنبے ذبح کئے،تو انہیں قبلہ رخ لٹایا۔۔۔انتہی (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-2795) انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں! کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں جانور کے اوپر رکھے ہوئے ہیں اور بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے ہیں۔ اس طرح آپ نے دونوں مینڈھوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ (صحیح بخاری،حدیث نمبر-5558) *جانور ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھنا مسنون* نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن سینگ دار ابلق خصی کئے ہوئے دو دنبے ذبح کئے، جب انہیں قبلہ رخ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں ابراہیم کے دین پر ہوں، کامل موحد ہوں، مشرکوں میں سے نہیں ہوں بیشک میری نماز میری تمام عبادتیں، میرا جینا اور میرا مرنا خالص اس اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی عطا ہے، اور خاص تیری رضا کے لیے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول کر، ( بسم اللہ واللہ اکبر ) اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ بہت بڑا ہے، پھر ذبح کیا..! (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-2795) (علامہ الألباني نے تخريج مشكاة المصابيح 1406 میں اسکو حسن کہا ہے) *جانور ذبح کرتے وقت یہ کلمات کہنے چاہیے* جوکوئي بھی قربانی کا جانور ذبح کرے تواس کے لیے ذبحںکرتے وقت مندرجہ ذيل الفاظ کہنے سنت ہيں : 1_ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ وَمِنْ أَہلِیْ۔ ”اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ (ذبح کرتا ہو ں ) اللہ سب سے بڑا ہے ، اے اللہ ! (یہ قربانی ) میری طرف سے اور میرے اہل کی طرف سے قبول فرما۔” *اور اگر وہ کسی دوسرے کی جانب سے قربانی ذبح کررہا ہو تواسے کہنا چاہیے کہ یہ فلان کی جانب سے ہے ) اوریہ کہے* 2_ بسم اللہ واللہ اکبر، اللهم تقبل من فلان وآل فلان ، اے اللہ فلان اورفلان کی آل کی جانب سے قبول فرما ۔ یہ الفاظ کہنا بھی ثابت ہیں! 3_بسمِ اللهِ واللهُ أكبرُ، اللهم هذا منك ولك اللہ تعالی کےنام سے اوراللہ بہت بڑا ہے ، اے اللہ یہ تیری جانب سے ہی ہے اورخالص تیرے ہی لیے ہے، *یاد رہے کہ اس میں صرف بسم اللہ پڑھنا واجب ہے اور باقی الفاظ کہنے مستحب ہیں، واجب نہيں* یہ استدلال کیا ہے، ان احادیث سے۔۔ انس رضي اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سینگوں والے دوسیاہ و سفید مینڈھے جن میں سفیدی زيادہ تھی اپنے ہاتھ سے ذبح کیے اوربسم اللہ ، اللہ اکبر کہا اوراپنی ٹانگ ان کی گردن پررکھی ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر_ 5565 ) (صحیح مسلم حديث نمبر_ 1966 ) اورامام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے بیان کیا ہے کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والامینڈھا لانے کا حکم دیا تووہ لایا گيا تا کہ اس کی قربانی کریں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے فرمایا : چھری لاؤ ، پھر فرمانے لگے اسے پتھر پرتیز کرو ( عا‏ئشہ رضي اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں ) میں نے ایسا ہی کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چھری لے لی اورمینڈھے کوپکڑ کرلٹایا اوراسے ذبح کرتےہوئے کہنے لگے : بسم اللہ ، اے اللہ محمد اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل اورامت محمدیہ کی جانب سے قبول کرپھر اسے ذبح کردیا (صحیح مسلم حدیث نمبر _1967) جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ عید کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مینڈھے ذبح کیے اور یہ کلمات کہے، بسمِ اللهِ واللهُ أكبرُ، اللهم هذا منك ولك اللہ تعالی کےنام سے اوراللہ بہت بڑا ہے ، اے اللہ یہ تیری جانب سے ہی ہے اورخالص تیرے ہی لیے ہے، (ارواء الغلیل للالبانی رحمہ اللہ_ 1152 ) *نوٹ* 1_ذبح کرتے وقت جانور کوقبلہ رخ لٹانا سنت ہے اگر قبلہ رخ نا ہو تو بھی کوئی حرج نہیں۔ 2_قربانی دینے والا خود سے ذبح کرے ،اگر ذبح کرنا اس کے لئے مشکل ہوتو کوئی بھی اس کی جگہ ذبح کردے۔ 3_جب جانور ذبح کرنے لگیں تو چھری کو تیز کرلیں تاکہ جانور کو ذبح کی کم سے کم تکلیف محسوس ہو۔ 4_زمین پر قبلہ رخ جانور لٹاکر تیزچھری اس کی گردن پہ چلاتے ہوئے بولیں بسم اللہ واللہ اکبر ۔ اتنی دعا بھی کافی ہے اور نیت کا تعلق دل سے ہے، اگر مزید دعا پڑھنا چاہیں تو اوپر ذکر کردہ دعاؤں میں سے کوئی بھی پڑھ سکتے ہیں، 5_ذبح کرنے میں چند باتیں ملحوظ رہے، ذبح کرنے والا عاقل وبالغ مسلمان ہو،کسی خون بہانے والے آلہ سے ذبح کیا جائے،ذبح میں گلہ یعنی سانس کی نلی اور کھانے کی رگیں کاٹنی ہیں اور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا ہے ۔ 6_ بے نمازی کی قربانی اور اس کے ذبیحہ کے متعلق علماء میں اختلاف ہے، کچھ علماء کے نزدیک بے نماز کی قربانی قبول نہیں اور نا ہی بے نماز کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہو گا، انکا اختلاف اپنی جگہ مگر نماز کو چھوڑنا بالاتفاق کفر ہے، قربانی دینے والا یا ذبح کرنےوالا اپنے اس عمل سے پہلے توبہ کرے اور آئندہ پابندی نماز کا عہد کرے، 7- خود جانور ذبح کریں یا کم از کم کسی نمازی آدمی سے ذبح کروائیں، (واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ) اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں، آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا, ان شاءاللہ۔۔!! سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔. یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!
مزید خبریں