’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘

لاہور( نظام الدولہ)مسلمان عموماً یہ دعا کسی کی وفات کا سن کر پڑھتے ہیں ۔بہت سوں کو اس آیت کا مطلب بھی معلوم نہیں ہوگا حالنکہ اس آیت مبارکہ میں اللہ کریم کی حکمت کی کھلی نشانیاں موجود ہیں اور یہ غم و پریشانی میں گھرے ہوئے لوگوں کی دلجوئی فرماتی ، بندے اور خدا کے درمیان تسلیم و رضا کو بیان کرتی ہے۔۔رسول کریم تو اس آیت کے وسیلہ سے رحم و اعانت طلب فرماتے تھے۔سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اَلَّذِیْنَ إِذَا أَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوآ إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ’انہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔‘‘ احادیث میں منقول ہے کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما قافلہ سے پیچھے رہ گئی ہیں تو انہوں نے اس موقع پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا تھا۔گویا یہ بات حق ہے کہ گمشدگی یا مصیبت کے عالم میں اس آیت کو پڑھا جائے تو اللہ کریم مدد فرماتے ہیں۔راستے بھٹک جانے پر راستہ مل جاتا ہے۔اس آیت کو درود الم کے طور پر بھی پڑھا جاتا ہے اور گمراہی سے بچنے کے لئے بھی۔مشائخ کا یہ معمول کا وظیفہ ہے جو وہ نفس کی سرکشی سے بچانے کے لئے بکثرت پڑھتے ہیں۔خاص طور گم شدہ اشیا کی تلاش میں پریشان ہونے والوں کواِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنا چاہئے ۔امتحانات یا کسی انٹرویو کے دوران گھبراہٹ سے وسوسے پیدا ہونے لگیں تو اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کا ورد کرنا چاہئے۔
مزید خبریں