س حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا ک

اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب،نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے،لیکن وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم،دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔ آپ آئے دن اخباروں میں پڑہتے رہتے ہیں کہ فلاں شخص نے نوکری نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کرلی،فلاں دوشیزہ نے محبت کی ناکامی میں اپنی جان دے دی،فلاں آدمی بیماری سے تنگ آکر پھنکے سےلٹک گیاالغرض بے شمار قسم کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے مسلمان کلمہ پڑھنے والے بعض اوقات تھوڑی سی پریشانی کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے جہنم چلے جاتے ہیں۔ اور آپ جانتےکہ خودکشی حرام موت ہے یعنی دنیا و آخرت دونوں تباہ [qh](خَسِرُودُنَيا والاخيره)[/qh] میرے بھائیو اور قابل احترام بہنوں یہ دنیا مصیبتوں ،پریشانیوں اور غموں کا گھر ہے،بعض لوگ اولاد کی نافرمانی کی وجہ سے پریشان بعض خواتین اپنے خاوند کے بے راہ روی کے متعلق غمگیں رہتی ہیں، کچھ لوگ مال، اسباب کے ختم ہوجانے پر غم میں ڈوبے رہتے ہیں، بعض لوگوں کو اولاد نہ ہونے کا غم،شاید اس لیے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا [qh](لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ)[/qh]یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے (سورۃ البلد:4)غم،دکھ اور پریشانی کا آجانا کوئی نئی بات نہیں یہ تو اس کا ئنات کے افضل ترین انسانوں یعنی انبیائے کرام کو بھی آئیں۔ کائنات کے امام کو بھی ایک غم تھا جس کا ذکر قرآن نے ان الفاظ میں کہا([qh]فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا[/qh])پس اگر یہ لوگ اس بات (یعنی قرآن) پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اس غم میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے۔(سورۃ الکہف:6) کس قدر اپنی امت کا غم ہے،کہ میری پوری امت جنت میں چلی جائے ۔قرآن کی ایک آیت تلاوت کرتے کرتے پوری رات گزر جاتی ہے۔[qh]( اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ)[/qh]اگر تو انکو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو معاف فرما دے تو تو ُ زبردست ہے حکمت والا ہے(المائدہ:118) آج ہمیں دنیا کی فکر ہے کسی طرح ہماری دنیا اچھی ہو جائے،آخرت کی کوئی فکر نہیں،قبر کی کوئی فکر نہیں جہاں ہزاروں سال رہنا ہے روز محشر کی کوئی فکر نہیں جس کا ایک دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔جہنم کی کوئی فکر نہیں جس کے بارے میں ہمارے نبیﷺنے فرمایا:آگ سے بچوخواہ ایک کھجور کا ٹکڑا ہی دے کر بچ سکتے ہو (بخاری) ہمارے کتنے بھائی اور بہنیں بے نمازی مر رہے ہیں کوئی فکر نہیں۔ ہمارا پڑوسی شرک و بدعات میں مبتلا ہےکوئی فکر نہیں۔ ہمارے اردگرد فحاشی اور عریانی پھیل رہی ہے کوئی فکر نہیں۔بس ہم اپنے خیال میں مگھن ہیں۔ دعوت و تبلیغ جیسا عظیم فریضہ ہم نے چھوڑ دیا ،اس لیے تو ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں ۔ آج اللہ نہ کرے ہمیں کوئی دکھ ،پریشانی ،یا غم آجائے تو لوگ شراب پینا شروع کردیتے ہیں، کیا ہوا بھائی جی کیا کروں بیوی سے جھگڑا ہو گیا اس غم کو بھولا رہا ہوں۔ کوئی سگریٹ پر سگریٹ پی رہا ہے،کیا ہوا بھائی صاحب نوکری چلی گئی بڑی پریشانی ہے ۔اور کچھ لوگ تو اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتے اور خودکشی کر لیتے ہیں، اور یہ نہیں جانتے کہ خود کشی حرام موت ہے۔ اس تھوڑی سی تمہید کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ دکھوں،عموں اور پریشانیوں کا علاج کیا ہے؟ اگرچہ غم اور پریشانیوں کا علاج تو آج سے چودہ سو 31سال پہلے قرآن و حدیث میں بڑے احسن انداز کے ساتھ بیان کردیا گیا۔
مزید خبریں