علم کی اہمیت و فضیلت

[caption id="attachment_65581" align="alignnone" width="300"] دعا. بہتر انتظام. مشورہ. تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟[/caption] انسان اور دیگر مخلوقات میں فرق عمل اور علم کا ہی ہے کہ دیگر مخلوقات میں یہ اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی معلومات اور علم میں اضافہ کریں ۔جبکہ انسان دیگر ذرائع کو استعمال کرکے اپنی معلومات میں اضافہ کر سکتا ہے ۔علم ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو مہذب بناتا ہے اسے اچھے اور برے میں فرق سیکھاتاہے،اللہتعالی نے اپنے نبی ّ پہ وحی کا آغاز بھی علم کی آیات سے کیا ،سورۃ علق نازل کرکے ،ایک علم والا اور جاہل انسان برابر نہیں ہو سکتے، اللہ تعالی فرماتا ہے،سورہ مجادلہ میں آیت نمبر :۱۱ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "يَرْ‌فَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَ‌جَاتٍ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِير" اور اللہ تعالی تم میں ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جو علم دیے گئے ہیں درجے بلند کردے گا اور اللہ تعالی(ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب)باخبر ہے: اللہ تعالی علم والے بندوں کے درجات کو بلند فرماتا ہے اس کے راستے میں آنے والی مشکلات کو دور فرماتا ہے عالم کی بہت زیادہ فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے ۔ حضرت امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ان میں سے ایک عالم تھا اور دوسرا عابد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عالم کی فضیلت عابد پہ ایسے ہی ہے جیسے کہ میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر،پھر آپّ نے فرمایا:کہ اللہ تعالی ،اس کے فرشتے اور آسمانوں طرف بلایا اس کے لیے اتنا ہی اجر ہےجتنا اس پہ چلنے والوں کے لیے ہے ،اور ان کے اجر میں سے کچھ بھی کم نہ کیا جائے گا،اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا اس کو اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا کہ اس پر چلنے والوں کو ملے گا اور اس کے گناہ میں سے کچھ بھی کم نہ کیا جائے گا ''۔ (مسلم ۲۶۷۴) Click to expand... وہ لوگ جو دین کا علم حاصل کرکے خود بھی عمل کرتے اور دوسروں کو بھی ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ان کے بارے میں اللہ کے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راوی ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ ہیں :کی جس نے ہدایت کی طرف بلایا اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے جتنا اس پر چلنے والوں کے لیے ہے اور ان کے اجر میں کچھ کمی نہ کی جائے گی اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا ۔اس کو اتنا ہی گناہ ملے گاجتناکہ اس پر چلنے والوں کو ملے گا اور اسکے گناہ میں کچھ کمی نہ کی جائے گی۔ (مسلم۔۲۶۷۴) یعنی جو شخص کسی کو اچھی راہ دیکھادے تو وہ جو نیک عمل کرے گا ءسکا ثواب اس راہ دیکھانے والے کو بھی ملے گا،اور جس نے کسی کو گناہ کی راہ دیکھا دی تو اس کو تو گناہ کرنے کا نقصان ہوگا ساتھ اس شخص کو بھی ہوگا جس نے اسے اس گناہ کی راہ دیکھائی ۔انکے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
مزید خبریں