یتیم ہونا آسان یتیم ہوکر جینا مشکل ہے ، حضور اکرم کا بیان

رسول کریم ﷺنے یتیم بچوں کے لطیف جذبات کا احساس کرتے ہوئےاس کے بارہ میں تفصیلی ہدایات دیں اور فرمایا:۔ جس نے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے پینے میں شریک کیااللہ تعالیٰ اسے جنت عطا فرمائے گا۔سوائے اس کے کہ اس نے ایسا گناہ نہ کیا ہو جو کہ قابل بخشش نہ ہو۔ (ترمذی کتاب البر والصلۃ باب 13-14) حضرت ابو درداءؓ نے حضرت سلمان فارسیؓ  کو ایک خط میں لکھا کہ اے میرے بھائی یتیم کے ساتھ رحم کا سلوک کرنااور اسے اپنے قریب رکھنا اس کے سر پر ہاتھ پھیرنا اور اسے اپنے کھانے میں سے کھانا کھلانا۔میں نے رسول کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا: جب ایک شخص نے آپ کے سامنے اپنے دل کی سختی کا ذکر کیا تو آپ ؐ نے اسے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو اور حاجتیں پوری ہوں تو یتیم کو اپنے پاس رسائی دو۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرو اور اپنے کھانے میں سے اسے کھلاؤیہ نیکی تمہارے دل کو نرم کرنے کا موجب اور تمہاری حاجتیں پوری ہوں گی اس طرح فرمایا جس دستر خوان پر یتیم کھانا کھاتا ہے وہاں شیطان نہیں آتا(یعنی بے برکتی نہیں ہوتی) (معجم الاوسط للطبرانی جلد7صفحہ163) آپؐ نے نفسیاتی طور پر یتیم بچے کو احساس کمتری سے بچانے کی خاطر نہایت باریک بینی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا طریق تک اپنے صحابہؓ  کو سمجھایا۔جو عام بچوں کے مقابل پر ایک امتیازی شان کا حامل ہے۔ حضرت عبدالرحمان بن ابزیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا تم یتیم کے لئے ایک محبت کرنے والے باپ کی طرح ہو جاؤ۔     (مجمع الزوائد جلد8) حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ کو گھروں میں سب سے پیارا گھروہ ہےجس میں یتیم کی عزت کی جاتی ہے‘‘                                     (ابن ماجہ کتاب الادب باب حق الیتیم) دوسری روایت میں ہے مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم سے حسن سلوک ہوتا ہے اور مسلمانوں کا بد ترین گھر وہ جس میں یتیموں سے بدسلوکی کی جاتی ہے۔                           (شعب الایمان للبیہقی جلد7صفحہ472) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا اس کی ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کو عذاب نہیں دے گا جس نے یتیم پر رحم کیا۔اور اس سے نرم گفتگو کی اور اس کی یتیمی  اور کمزوری کی حالت میں اس سے پیار کا سلوک کیا ۔ (ابو داؤد کتا ب الادب فی فضل من یتامی) حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا یتیم کو رلانے سے بچو کیونکہ رات کو جب  لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو اس کا رونا آسمان پر بڑی تیزی سے جاتا ہے۔                                (الترغیب والترھیب للمنذری جلد3صفحہ 348) ایک روایت میں ہے : بیوگان اور مسکین کے لئے کوشش اور خدمت میں لگا رہنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اس عبادت گزار کی طرح ہے جو تھکتا نہیں اور اس روزہ دار کی طرح ہے جوافطار نہیں کرتا۔                               (بخاری کتاب الادب باب25) پھر فرمایاکہ:یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں دو انگلیوں کی طرح ملے ہوں گے اور آپ ؐنے اپنی انگشت شہادت اور وسطی انگلی کو ملا کر دکھایا۔دوسری روایت کے مطابق فرمایا بشرطیکہ کفالت یتیم کرنے والا۔اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کا حق ادا کرے۔                (بخاری کتاب الادب باب24،مسند احمد جلد2ص375) حضرت ابو امامؓہ  کی روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا جس شخص نے کسی یتیم بچے کے سر پرمحض خدا کی خاطر ہاتھ پھیرا تو ہر بال کے عوض جسے اس کے ہاتھ نے چھوا اسے کئی نیکیاں عطا کی جائیں گی اور جس نے یتیم بچی کی عمدہ تربیت یا اپنے زیر پرورش کسی یتیم بچی سے حسن سلوک کیا اور میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے آپ نے وسطی انگلی اور انگشت شہادت کو ملاکر دکھایا۔ (مسند احمدجلد 5صفحہ250) ایک دفعہ ایک یتیم بچے کا حضرت ابو لبابہؓ سے ایک کھجور کے درخت پر تنازعہ ہوگیا۔رسول للہ ﷺ نے ابو لبابہؓ کے حق میں فیصلہ فرمایا۔یتیم بچہ رونے لگا تو رسول اللہؐ نے ابو لبابہؓ  کو تحریک فرمائی کہ بے شک درخت آپ کا ہے مگر یہ آپ اس یتیم بچہ کو دے دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے عوض میں جنت میں درخت عطا فرمائے گا ابو لبابہ نے پیش قبول نہ کی حضرت ثابت بن داحدحؓ  کو پتہ چلا تو انہوں نے ابو لبابہؓ سے پوچھا کہ تم میرے پانچ کے عوض مجھے یہ درخت دے سکتے ہو ابو لبابہؓ مان گئے تو حضرت ثابت بن ابو وحدح نےرسول اللہ ؐکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہؐ کھجور کا وہ درخت جو آپ نے یتیم بچے کے لئے لینا چاہا تھا اگر میں وہ لے کر پیش کر دوں تو کیا مجھے بھی اس کے عوض جنت میں درخت ملے گا۔آپؐ نے فرمایا ہاں پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔حضرت ابو دحداحؓ جب شہید ہوئے تو رسول اللہﷺنے فرمایا:۔ابو وحداح کے لئے جنت میں کتنے ہی پھل دار درخت جھکے ہوں گے۔ (استعصیاب صفحہ792 دارالمعرفہ بیروت) آنحضرت ﷺبیوگان اور یتامیٰ سے حسن سلوک کا خاص خیال رکھتے تھے۔ایک غزوہ سے واپسی پر جب آپ کے لشکر کے پاس پانی ختم ہوگیا تو صحابہؓ پانی کی تلاش میں نکلے ایک عورت اونٹ پر اپنی لاتی ہوئی ملی۔معلوم ہو اکہ بیوہ عورت ہے جس کے یتیم بچے ہیں۔رسول کریم ؐنے دعا کرکے اس کے پانی کے اونٹ پر سے ایک مشکیزہ لے کراس پر برکت کے لئے دعا کی پھر اس کے پانی سے تمام لشکر نے پانی پیا مگر پھر بھی وہ کم نہ ہوا رسول اللہ ﷺنے اس بیوہ سے حسن سلکو ک کی خاطر صحابہؓ کے پاس موجود زاد راہ جمع کروائی اور بیوہ کو کھجوریں اور روٹیاں عطا کرتے ہوئے فرمایا:۔ہم نے تمہارا پانی ذرا بھی کم نہیں کیا اور یہ زاد راہ تمہارے یتیم بچوں کے لئے تحفہ ہے ۔اس عورت نے اپنے قبیلہ میں جا کر کہا کہ میں ایک بڑے جادو گر کے پاس سے ہو کر آئی ہوں ۔یا وہ نبی ہے یوں اس عورت کی بدولت اللہ تعالیٰ نے اس قبیلہ کوہدایت کی توفیق فرمائی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ (بخاری کتاب المناقب باب علامۃ النبوت فی الاسلام ) یتیموں کے لئے رسول اللہﷺکا دل بہت نرم اور فراخ واقع ہو ا تھا۔حضرت عبداللہ بن ابی سے روایت ہے کہ ہم نبی کریمﷺکے پاس بیٹھے تھے۔ایک بچہ نے آکر عرض کیا یا رسول اللہؐ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں میں ایک یتیم بچہ ہوں۔میری ایک یتیم بہن بھی ہے اور ہماری بیوہ ماں یتیموں کی پرورش کرتی ہے آپ اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے اس کھانے میں سے ہمیں کچھ عطا فرما دیں کہ ہم راضی ہو جائیں ۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے بچے!تم نے کیا خوب کہا۔ہمارے گھروالوں کے پاس جاؤ اور جو کھانے کی چیز ان سے ملے وہ لے آؤ۔بچہ آپ کے پاس اکیس کھجوریں لے کر آیا۔رسول اللہ ﷺنے کھجوریں اپنے ہاتھ پر رکھیں اور ہتھیلیاں اپنے منہ کی طرف اٹھائیں ہم نے دیکھا جیسے آپؐ اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا کر رہے ہیں۔پھر آپؐ نے فرمایا:۔بچے سات کھجوریں تمہارے لئے، سات تمہاری ماں کے لئے اور سات تمہاری بہن کے لئے ہیں ایک کھجور صبح اور ایک کھجور شام کو ۔ جب وہ بچہ رسول کریمؐ کے پاس سے جانے لگا تو حضرت معاذ بن جبلؓ نے اپنا ہاتھ اس بچہ کے سر پر رکھا اور کہنے لگےکہ اللہ تعالیٰ تمہاری یتیمی کا مداوا کرے اور تمہارے باپ کا اچھا جانشین تمہیں عطا کرے ۔ رسول اللہﷺنے فرمایا اے معاذ !آپ نے اس بچہ کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ میں نے دیکھا ہے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!اس بچہ سے محبت کے جذبہ سے سرشار ہو کر میں نے ایسے کیا۔نبی کریمﷺ نے فرمایا۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے مسلمانوں میں سے کوئی یتیم کا والی نہیں بنتا مگرا للہ تعالیٰ اس شخص کو یتیم کے ہر بال کے عوض ایک درجہ بڑھاتا ہے اور ہر بال کے عوض ایک اور نیکی عطا کرتا اور ہر رحمت اس پر ہو میں یہ سن کر رونے لگا رسول اللہ ﷺنے میرے سر پر ہاتھ پھیرا مجھے اپنے ساتھ سواری پر بٹھایا اور فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہارا باپ میں ہوں گا اور حضرت عائشہ تمہاری ماں۔             (مجمع الزوائد جلد8ص161) نبی کریم ﷺنے یتیم کی مالی حقوق کی حفاظت کے لئے قرآنی تعلیم پر عمل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہلاک کرنے والی چندباتوں سے تنبیہ کرتے ہوئے یتیم کا مال کھانے کی ممانعت فرمائی اور اس کے قریب نہ جانے کی قرآنی ہدایت کے احترام میں یہاں تک فرمایا کہ حتی الوسع مال یتیم کی ذمہ داری اٹھانے سے بھی بچو۔ (نسائی کتاب الوصایا النھی من الولایۃ مال الیتیم) تاہم ایسے مال کی نگرانی سپرد ہو جانے کی صورت میں آپ نے یہ ہدایت فرمائی کہ یتیم کے مال سے اسراف اور فضول خرچی نہ کی جائے البتہ اپنے مال و جائیداد بنائے بغیر اپنے اوپر کھانے پینے کے لئے خرچ کر سکتے ہو۔یہ اجازت تنگدست کے لئے بطور حق خدمت کے ہےجو  مال یتیم میں تجارت وغیرہ کے لئے اپنا وقت صَرف کرتا ہے آپ نے یہ ہدایت بھی فرمائی کہ مال کوبغیر تجارت میں لگائے اس طرح جمع کر کے نہ رکھو کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے وہ مسلسل کم ہوتا رہے۔ (ترمذی کتاب الذکوٰۃ باب زکوٰۃ مال یتیم) رسول اللہ ﷺ نے جہاں بیوگان کے حقوق قائم فرمائے وہاں ایسی بیوہ عورتوں کی قربانی کو بھی سراہا جو اپنے شوہر کے یتیم بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لئے وقف ہو کر رہ جاتی ہیں۔چنانچہ حضرت عوف بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ میں اور زرد رخساروںوالی عورت قیامت کے دن ان دو انگلیوں درمیانی اور شہادت کی (انگلی)کی طرح ہوں گے۔وہ صاحب حیثیت اور شکل و صورت رکھنے والی عورت جس کا خاوند فوت ہو گیا اور اس نے اپنے آپ کو اپنے یتیم بچوں کی خاطر وقف کر دیا یہاں تک کہ وہ خود اس سے جدا ہوئے یا فوت ہوگئے۔ (ابوداؤد کتاب الادب باب فی فضل مال یتیم) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھولوں گا تو اچانک دیکھوں گا کہ ایک عورت بڑی تیزی سے میری طرف آتی ہے میں اس سے کہوں گا کہ آپ کون ہو اور آپ کو کیا ہوا وہ کہے گی کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جو اپنے یتیم بچوں کی خاطر بیٹھی رہی تھی۔
مزید خبریں