آیا صوفیہ کی عمارت کا مرکزی دروازہ جس لکڑی سے بنا ہے وہ کہاں سے آئی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) اپنی طویل تاریخ میں 85 برس کے وقفے کے بعد بازنطینی دور کی اہم عمارت اور دنیا کے عظیم تاریخی ورثے میں سے ایک ’آیا صوفیہ‘ دوبارہ عبادت کی جگہ بن گئی۔ یہ عظیم عمارت ہمیشہ دنیا کے اس خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کا مظہر رہی ۔ پہلی بار آیا صوفیہ کو سنہ 360 میں کونسٹنٹائن کے بیٹے کونسٹینٹیئس دوئم نے کھولا ۔1453 کوسلطان محمد نے قسطنطنیہ فتح کیا اور بازنطینی چرچ کو چند تبدیلیوں کے بعد مسجد بنا دیا۔ عمارت 900 سال تک چرچ، 500 سال تک مسجد، تھوڑے عرصے کیلئے میوزیم بھی رہی۔تفصیلات کے مطابق رومن مورخ ٹیسیٹس کے مطابق آیا صوفیہ یعنی چرچ آف دا ہولی وزڈم آف کرائسٹ بازنطینی شہر ایکروپولس میں اُسی مقام پر قائم کیا گیا تھا جہاں اس سے پہلے بھی دو گرجا گھر بنائے گئے تھے ۔ سنہ 404 میں فسادات کے دوران اسے نذر آتش کیا گیا۔ اُس کے بعد تھیوڈوسیئس دوئم نے سنہ 405 میں اسے دوبارہ تعمیر کیا لیکن سنہ 532 میں ہونے والے فسادات میں اسے ایک مرتبہ پھر نذرِ آتش کر دیا گیا۔ اُس جلی ہوئی عمارت کی کچھ باقیات موجودہ مسجد کے باغ میں موجود ہیں۔ فسادات میں جلائے جانے کے کچھ دنوں کے بعد بادشاہ جسٹینیئن نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور چھ سال سے کم عرصے میں اس کام کو مکمل کیا۔ ایک داستان کے مطابق اس کے دروازے حضرت نوح کی کشتی کے ٹکڑوں سے بنائے گئے ۔ سنہ 1204 میں جب یورپی حملہ آوروں نے شہر پر دھاوا بولا تو مسیحیت کے مشرقی اور مغُربی گروہوں کے درمیان جنگ نے شہر کو تاراج کر دیا۔ انتہائی اہم تاریخی نوادرات ضائع ہو گئے جن میں حضرت عیسیٰ کے روضے کا پتھر، وہ نیزہ جو حضرت عیسیٰ کے جسم میں پیوست ہوا تھا۔ حضرت عیسی کا کفن، جو اصلی صلیب تھی اس کے کچھ ٹکڑے ، سینٹ ٹامس کی مشتبہ انگلی اور کئی دیگر سینٹ کی ہڈیاں شامل تھیں۔22 اپریل سنہ 1453 کو ترک رہنما سلطان محمد اور اس کی فوج نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔ پانچ ہزار بازنطینی فوج کو دو لاکھ عثمانی فوج کا سامنا تھا۔ سلطان محمت یا محمد فاتح نے 53 روز تک شہر پر مسلسل بمباری کی مئی 29، سنہ 1453 کو بلآخر قسطنطنیہ کی مضبوط اور بلند دیواریں ٹوٹ گئیں۔ قسطنطنیہ کے لیے یہ تاریخ میں ایک نئے باب آغاز تھا۔ شہر کا نیا نام استنبول ہو گیا جو سلطان محمد کی سلطنتِ عثمانیہ کا دارالحکومت تھا۔ آیا صوفیہ چرج کی عمارت مسجد بن گئی۔ عمارت میں کسی بنیادی تبدیلی کے بجائے اس کے ہر کونے میں ایک مینار بنا دیا گیا۔ مسیحیت سے منسلک نقش و نگار کو پلاسٹر یا اسلامی تزئین و آرائش سے چھپا دیا گیا ۔ سب سے اہم تبدیلی محراب کی تعمیر تھی تا کہ مسلمان قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ سکیں۔ بیسویں صدی میں سینٹ صوفیہ کی شناخت ایک مرتبہ پھر تبدیل ہوئی اور وہ ایک میوزیم بن گیا۔

- Advertisement -

مزید خبریں